وارانسی، 23 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اتحاد نے وارانسی سیٹ پر اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔پی ایم مودی کے خلاف شالکنی یادو اپنی قسمت آزمانے اتریں گی۔اس سے پہلے شالکنی یادو کانگریس میں تھیں۔ انہوں نے پارٹی بدل کر پیر کو سماج وادی پارٹی کا دامن تھام لیا۔وارانسی کی یہ سیٹ اتحاد میں سماجوادی پارٹی کے کھاتے میں آئی ہے۔ایسے میں سماجوادی پارٹی پی ایم مودی کے خلاف ٹکر دینے والے کسی امیدوار کے نام پر فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔پارٹی کو اپنی پارٹی میں کوئی لیڈر نہیں ملا تو کانگریسی کو ہی پارٹی میں شامل کر لیا۔وارانسی سیٹ لوک سبھا انتخابات 2014 کے بعد سے ہی سب سے وی آئی پی سیٹ میں تبدیل ہو چکی ہے،یہاں اگر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی خود نہیں اترتی ہیں تو جنگ انتہائی آسان ثابت ہو سکتی ہے۔شالکنی یادو کے خاندانی پس منظر کی بات کی جائے تو ان کا کانگریس سے پرانا رشتہ ہے،وہ اس سے پہلے وارانسی سے میئر کا الیکشن لڑچکی ہیں۔نریندر مودی کے آنے سے پہلے وارانسی سے 2009 کا الیکشن بی جے پی کے سابق قومی صدر مرلی منوہر جوشی نے لڑا تھا اور فاتح رہے تھے۔2014 میں بھی جوشی یہیں سے لڑنا چاہتے تھے، لیکن مودی کی وجہ سے انہیں یہ سیٹ چھوڑنی پڑ گئی تھی۔1952 میں وارانسی (مرکزی) سے کانگریس کے رگھوناتھ سنگھ کو کامیابی ملی تھی اور وہ 1962 تک یہاں سے مسلسل 3 بار فاتح رہے تھے۔1967 کے انتخابات میں ستیہ نارائن سنگھ نے کمیونسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر لڑے اور انہیں یہاں سے کامیابی ملی۔1990 کی دہائی ملک میں مندر تحریک شروع ہونے کے بعد بی جے پی ایک نئی قوت کے طور پر ابھری اور 1991 سے 1999 تک مسلسل 4 انتخابات میں بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی۔2004 کے انتخابات میں کانگریس نے ایک عرصے بعد واپسی کی۔کانگریس امیدوار ڈاکٹر راجیش کمار مشرا نے یہاں سے 3 بار کے ایم پی شنکر پرساد جیسوال کو شکست دی،پھر 2009 کے انتخابات میں بی جے پی نے قدآور لیڈر مرلی منوہر جوشی کو ٹکٹ دیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی پکڑ کو برقرار رکھا،پھر 2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے یہاں آکر بڑی کامیابی حاصل کی اور ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر قابض ہوئے۔2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی ایک بار پھر بی جے پی امیدوار کے طور پر اپنا چیلنج پیش کر رہے ہیں۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق 36.8لاکھ ہے جس میں 19.2 لاکھ (52فیصد) مرد اور 17.5 لاکھ (48فیصد) خواتین کی آبادی شامل ہے۔ان میں سے 86فیصد آبادی جنرل کوٹے کی ہے جبکہ 13فیصد آبادی ای سی ہے اور محض 1فیصد آبادی سینٹ ہے۔اس میں 57فیصد یعنی 20.8 لاکھ آبادی دیہی علاقوں میں اور 43فیصد یعنی 16 لاکھ آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔مذہب کی بنیاد پر وارانسی میں 85 فیصد آبادی ہندوؤں کی ہے جبکہ 15 فیصد مسلم سماج کے لوگ رہتے ہیں۔یہاں کے جنسی تناسب دیکھا جائے تو فی ہزار مردوں پر 913 ہندو اور 915 مسلمان خواتین رہتی ہیں۔وارانسی کی شرح خواندگی 76فیصد ہے جس 84 فیصد مردوں کی آبادی تو 67فیصد خواتین کی آبادی کا علم ہے۔انتخابات میں اہم مقابلہ بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار نریندر مودی اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے درمیان تھا، اگرچہ اس مقابلے میں میدان میں 42 امیدواروں نے اپنا چیلنج پیش کیا تھا۔اس میں 20 امیدوار بطور آزاد امیدوار میدان میں تھے۔نریندر مودی نے آسان مقابلے میں کجریوال کو 371784 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔مودی کو کل پڑے ووٹوں میں 581022 یعنی 56.4فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار اروند کجریوال کے کھاتے میں 209238 (20.3فیصد) ووٹ پڑے۔تیسرے نمبر پر کانگریس کے امیدوار اجے رائے رہے جن کے کھاتے میں محض 75614 ووٹ ہی پڑے۔اب دیکھتے ہیں کہ بی جے پی کے خلاف کانگریس اور سماج وادی پارٹی۔بی ایس پی اتحاد انفرادی کس طرح سے جیتنے دعویداری پیش کر سکتے ہیں۔